برازیل کے بائیں بازو کے سابق صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا، جنہوں نے 31 اکتوبر کو صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کی تھی نے پارلیمنٹ میں حلف اٹھا لیا ہے۔
سلوا نے حلفیہ تقریب کے دوران برازیل کی نشاط نو کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ” وہ آئین کا تحفظ اور دفاع کریں گے اور اس پر عمل پیرا ہوں گے، وہ تمام تر برازیلی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تعاون کرنے، اتحادو یکجہتی، سالمیت اور خود مختاری کی راہ میں آگے بڑھیں گے۔”
امریکہ یورپی یونین اور چین کے ساتھ فعال بات چیت کو برقرار رکھنے کی وضاحت کرنے والے سلوا نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں عدم تحفظ کا ماحول پایا جاتا ہے ، "برازیل نہیں چاہتا کہ اس کے عوام کے ہاتھوں میں اسلحہ ہو اور اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ایک زیادہ انصاف پسند ملک بننے کے لیے ہمیں ثقافت اور کتب کی ضرورت ہے۔ ایندھن اور دیگر سازو سامان درآمد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ برازیل کو بین الاقوامی معیشت کی صف ِ اول میں شامل ہونا چاہیے۔”
نو منتخب صدر نے ملکی معیشت کے تناظر میں اس چیز کا بھی عندیہ دیا ہے کہ 33 ملین انسانوں کو فاقہ کشی اور ایک سو ملین کو مفلسی سے نجات دلائی جائیگی۔سلوا نے بعد ازاں پلانالتو پیلس میں صدارتی نشان وصول کرنے کے بعد محل کے سامنے جمع تقریباً3 لاکھ حامیوں سے خطاب کیا۔
یہ بتاتے ہوئے کہ ملک میں عدم مساوات زوروں پر ہے اور وہ اس کا خاتمہ کریں گے، سلوا نے کہا، "فاقہ کشی کی واپسی برازیلی عوام کے خلاف سر زد کردہ سب سے بڑا جرم ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں ملک میں لیبر مارکیٹ، سیاسی نمائندگی، صحت اور تعلیم آمدنی، جنسیت، نسل، ہر قسم کی عدم مساوات کا مقابلہ کروں گا۔

Leave feedback about this