کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) 35سال کی عمر میں ایم فل کرکے کراچی یونیورسٹی کا ایک سکیورٹی گارڈ اسی یونیورسٹی میں لیکچرار بھرتی ہو گیا۔ نیوز ویب سائٹ’پروپاکستانی‘ کے مطابق اختر نواز خٹک نامی اس لیکچرار کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، وہ میٹرک پاس تھے جب ان کی بطور سکیورٹی گارڈ نوکری لگی۔ رات کی شفٹ میں وہ نوکری کرتے اور دن میں پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا اور اب اسی یونیورسٹی میں وہ لیکچرار بن گئے ہیں۔نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اختر نواز خٹک کا کہنا تھا کہ ”جب میری نوکری لگی تو مجھے بات کرنے کا سلیقہ بھی نہیں تھا تاہم مجھے پڑھنے کا شوق تھا۔ چنانچہ میں نے نوکری کے سات تعلیم جاری رکھی۔ جب میرا داخلہ ایم فل میں ہوا تو میں نے نوکری رات کی شفٹ میں کرا لی کیونکہ صبح مجھے ایم فل کی کلاسز لینی ہوتی تھیں۔ “اختر خٹک نے بتایا کہ ”جب میرا ایم فل مکمل ہوا تو ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ نے کہا کہ آپ ہمارے لیے ٹیچنگ شروع کر دیں۔ مجھے شروع میں تو بہت عجیب لگا مگر پھر میں نے پوری تیاری کے ساتھ ٹیچنگ کا آغاز کر دیا۔ اب میں پی ایچ ڈی کی تیاری بھی کر رہا ہوں۔“ رپورٹ کے مطابق اختر خٹک نے اپنا تھیسز سٹریٹ کرائمز، ان کی وجوہات اور ان کے تدارک پر کیا اور وہ یونیورسٹی میں کریمنالوجی ہی پڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انسان میں کچھ کر گزرنے کی جستجو ہو تو پھر کچھ ناممکن نہیں ہے۔

Leave feedback about this