
عباس عرقچی وزارت خارجہ میں شمولیت سے پہلے پاسداران انقلاب کے فعال رکن رہ چکے ہیں، وہ ایران پر عراق کی مسلط کردہ جنگ کے دور میں پاسداران انقلاب کا حصہ بنے تھے۔
ابھی عباس عراقچی کو باضابطہ طور پر وزیرخارجہ مقرر نہیں کیا گیا کیونکہ ابھی 21 اگست کو پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ لیا جانا باقی ہے۔
61 برس کے عباس عرقچی سابق صدر حسن روحانی کے دور میں نائب وزیرخارجہ تھے اور ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق عالمی مذاکرات جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
پارلیمنٹ سے خطاب میں عباس عرقچی نے کہا کہ وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنے پیشرو حسین امیر عبدالہیان کی پالیسیاں جاری رکھیں گے، امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کا ساتھ دینے والے چین، روس سمیت دیگر ممالک اور ابھرتی طاقتوں کے بارے میں دو ٹوک انداز میں کہا کہ ان سے تعلقات ترجیحی بنیادوں پر مضبوط کیے جائیں گے۔
