کینبرا :سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پارلیمانی تعاون عوامی رابطوں اور رکن ممالک کے مابین تعاون کو فروغ دینے کے لیے ناگزیر ہے، موسمیاتی تبدیلیوں اور عوام کی معاشی فلاح و بہبود جیسے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں، عوام تک رسائی اور پارلیمانوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ضروری ہے، پاکستان کی پارلیمان ڈیجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے میں صف اول میں کھڑی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں دولت مشترکہ کے سپیکرز اور پریزائیڈنگ آفیسرز کی 26ویں کانفرنس میں شرکت کے دوران کانفرنس کے افتتاحی اور پارلیمانوں کی سکیورٹی سے متعلق اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ دولت مشترکہ کی 26 ویں کانفرنس آسٹریلیا کے شہر کینبرا میں منعقد ہو رہی ہے۔کانفرنس میں دولتِ مشترکہ کے 56 ممالک کے پارلیمانوں کے اسپیکرز اور پریزائیڈنگ افسران شرکت کر رہے ہیں۔
اس موقع پر سپیکر راجہ پرویز اشرف کو ایشیا ریجن سے سی ایس پی او سی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی دولت مشترکہ کے سپیکرز اور پریزائیڈنگ آفیسرز کی کانفرنس کے موقع پر آسٹریلیا کے ایوان نمائندگان کے اسپیکر ہون ملٹن ڈک کے ساتھ ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سپیکر قومی اسمبلی نے آسٹریلیا کے اسپیکر کو اہم کانفرنس کی میزبانی کرنے پر مبارکباد پیش کی۔دونوں رہنماؤں کی جانب سے دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں کا تمام عالمی اور علاقائی فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت پر اتفاق رائے پایا گیا۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے آسٹریلیا کی پارلیمنٹ میں مہمانوں کے لیے رکھی گئی کتاب میں اپنے تاثرات قلم بند کیے۔سپیکر قومی اسمبلی نے کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے سری لنکا، کینیڈا، برطانیہ، مالٹا اور دیگر رکن ممالک کے سپیکرز کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں جن میں اہم عالمی، علاقائی معاملات اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور تبادلہ خیال کیا گیا۔

