اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اوآئی سی وزرائےاطلاعات کے بارھویں اجلاس میں اسلاموفوبیا، فیک نیوز اور دیگر مسائل سے نمٹنے کے لئے 7 اہم تجاویز پیش کردی ہیں۔مریم اورنگزیب نے استبول کانفرنس میں خطاب میں کہا کہ اجتماعی سیاسی ومعاشی وزن ڈالنے سے دنیا بھر میں مسلمان اقلیت کے حقوق کا تحفظ ممکن ہوسکتا ہے، اس ضمن میں ہماری تجویز ہے کہ معلومات اور اطلاعات پر اجارہ داری اور نوآبادتی طرز کا مقابلہ کیاجائے۔انکا کہنا تھا کہ غیرجانبدارانہ اور آزادانہ اطلاعات کی فراہمی اور ترسیل کا نظام قائم کیاجائے، اطلاعات پر دانستہ کنٹرول کے ذرائع سے اسلام اور مسلمانوں کے تشخص کے بارے میں خاص سوچ پھیلائی جارہی ہے. بہت سارے مسلمان ممالک میں آزاد میڈیا کام کررہا ہے جس نے عوام کے ذہنوں میں جگہ بنالی ہے۔وزیر اطلاعات کا کہناتھا کہ مسلمان ممالک میں اطلاعات کے بہاﺅ کو یکجا کرنے اورہم آہنگی لانے کی ضرورت ہے، اسلام اور مسلمان معاشرے کے بارے میں مسلمان ممالک کے اندر پھیلائے جانے والے غلط تصورات سے نمٹنے کی بھی ضرورت ہے۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے مزید فروغ، عوام کی زیادہ سے زیادہ شرکت، اجتماعیت میں اضافے اور اظہار رائے کی آزادی پر توجہ مرکوز کی جائے،حساس مگر عالمی سطح پر نمایاں ہونے والے یہ موضوعات ہمار ہداف ہونا چاہئے جنہیں مسلمانوں اور مسلمان ممالک کے خلاف غلط اور گمراہ کن نیت سے استعمال کیاجاتا ہے ہمیں فیک نیوز کا سچی خبروں کے ذریعے مقابلہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی سے سوشل میڈیا پر رجحان بنانے والے طریقوں کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی بنانا ہوگی، ہمیں عوام کے حقیقی جذبات کی ترجمانی کی راہ ہموار کرنا ہوگی، روبوٹس سے عوامی رائے پر اثراندا ہونے کے ہتھکنڈوں سے نمٹنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرولز کی جگہ حقیقی رائے شماری اور آگہی کے طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی، ایسے قوانین کی ضرورت ہے جس کے تحت نفرت پھیلانے اور دھوکہ دہی کرنے والوںکی نشاندہی ہو اور انہیں سزا مل سکے، ان اقدامات کے ساتھ ساتھ بنیادی آزادیوں کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کا عالمی دن منانے کی قرارداد کی منظوری بڑا قدم ہے ہمیں اس قرارداد سے پیدا ہونے والی تحریک کی رفتار اور دائرے میں وسعت لانے کے لئے کام کرنا ہوگا۔ ہم ’او۔آئی۔سی‘ کے سیکریٹری جنرل سے درخواست کرتے ہیں کہ اسلاموفوبیا کے لئے خصوصی نمائندے کا تقرر کریں،اسلاموفوبیا کے لئے نمائندہ خصوصی کے تقرر کا فیصلہ اسلام آباد میں ’او۔آئی۔سی‘ وزرا خارجہ کونسل کے اجلاس میں منظور کردہ قرار دادمیں ہوا تھا۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’او۔آئی۔سی‘ کی قیادت میں ماہرین کا پینل تشکیل دیا جائے جو اسلامو فوبیا کے واقعات سے نمٹنے کے لئے تنظیم کو تجاویز دے اس پینل کے ذریعے اسلامو فوبیا کا نشانہ بننے والوں کی حمایت کی جائے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں اور فلسطینی عوام کے غیرمتزلزل عزم کو سلام پیش کرتا ہے پاکستان اوآئی سی رکن ممالک کے میڈیا پر زور دیتا ہے کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جرات مندانہ اور منصفانہ جدوجہد کو اجاگر کریں او آئی سی رکن ممالک کا میڈیا مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں بھارت اور اسرائیل کی قابض افواج کی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جارحیت اور جبرواستبداد کو اجاگر کرے۔ان کا کہناتھا کہ اوآئی سی ممالک کا میڈیا منظم انداز سے ہونے والے ان مظالم کو اجاگر کرنے کو اولین ترجیح دے، او آئی سی ممالک کا میڈیا مقبوضہ خطوں میں انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم پر دنیا کو آگہی فراہم کرے۔خطاب کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ مقبوضہ خطوں میں انسانی بحران اور پامال ہوتے بنیادی حقوق کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی جائے، پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لئے کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کرتا آرہا ہے ہمیں امید ہے کہ خطے میں پائیدار امن، طویل المدتی ترقی کے لئے پاکستان کی کوششوں کا اسی جذبے سے جواب دیا جائے گا۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ اسلام کا حقیقی تشخص اور تعلیمات کو اجاگر کرنے کے لئے اوآئی سی رکن ممالک کو میڈیا کے جدید ترین ذرائع بروئے کار لانا ہوں گے، تحمل وبرداشت اور بقائے باہمی کافروغ اور عدم برداشت، تشدد، نفرت اور دہشت گردی کے رویوں کی نفی کرنا ہوگی ۔وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے اوآئی سی ممالک کے درمیان میڈیا کے اشتراک عمل کی چا رنکاتی حکمت عملی بھی پیش کی،ان کا کہنا تھا کہ اوآئی سی رکن ممالک کے ذرائع ابلاغ اور میڈیا آرگنائزیشنز کے درمیان سٹرٹیجک شراکت داری قائم کی جائے. مشترکہ اسلامی میڈیا ایکشن ادارے قائم کئے جائیں. ان اداروں کے ذریعے غلط اطلاعات، فیک نیوز کا تدارک کیاجائے.

