کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا جس کے تحت شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
اسٹیبٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جمعے کے روز بتایا گیا کہ نئی مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو ایک فیصد بڑھا گیا ہے جس کے بعد سود کی شرح 16 فیصد تک ہوگئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ شرح سود میں اضافے کا مقصد افراط زر میں اضافے اور مالیاتی استحکام کو لاحق خطرات کو روکنا ہے۔
قومی مرکزی بینک نے امید ظاہر کی کہ شرح سود میں اضافے سے پائیدار بنیادوں پر معیشت ترقی کی راہ پر ہموار ہوجائے گی۔
اسٹیٹ بینک نے سیلاب کے باعث فصلوں کی تباہی ،معاشی سست وری اور ملکی و عالمی سطح پر رسد کے مسائل کے باعث مہنگائی میں مزید اضافہ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ غذائی اجناس کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مالی سال 23 میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 21تا23 فیصد تک ہوسکتی ہے۔ جبکہ روپے کی کمزوری اور فنانسنگ کے حالات ملک کےلئے سخت چیلنج ہیں۔
زری پالیسی کمیٹی کے مطابق رسد میں مشکلات کے باعث غذائی گرانی پر قابو پانا اور در آمدات میں اضافہ ناگزیر ہے، بجلی کی قیمتوں میں پچھلے مہینے کی انتظامی کمی کے اثرات سامنے آئے تو اکتوبر میں عمومی مہنگائی تیزی سے بڑھ گئی۔
اعلامیہ اسٹیٹ بینک کے مطابق حالیہ سیلاب سے فصلوں کو ہونے والے نقصانات کے باعث غذائی اشیا کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہوا اور مہنگائی مزید بلند ہوئی ہے، درآمدات میں یک دم کمی کے نتیجے میں ستمبر اور اکتوبر دونوں مہینوں میں جاری کھاتے کے خسارے میں خاطر خواہ اعتدال آیا، تاہم اس اعتدال اور اے ڈی بی کی جانب سے تازہ فنڈنگ کے باوجود بیرونی کھاتے کی دشواریاں برقرار ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے سیلاب کے نقصانات کے جائزے میں مالی سال 23ء میں لگ بھگ 2 فیصد نمو اور جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً 3 فیصد ہونے کی پھر تصدیق کی گئی ہے۔

Leave feedback about this