QUEST NEWS

Pakistan

سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے قومی لیجنڈز کے ساتھ کیا کیا؟

سرکاری غیرسرکاری دستاویز پر دستخط کیے جانے کو عرف عام میں چڑیا بٹھانا کہتے ہیں، یہی چڑیا بجٹ منظوری پر بٹھا دی جائے تو سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی ماہانہ آمدنی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

 

مگر اس چڑیا بٹھانے سے بھی جن افراد کو سرکاری سطح پر وظائف دیے جاتے ہیں، عموماً ان کے وظائف میں اضافہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ سالہا سال وہ اسی قلیل رقم پر گزارہ کرتے ہوئے اپنی سادگی کا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

ملک کے اہم عہدوں پر تعینات شخصیات بلحاظ عہدہ چونکہ بیک وقت کئی دیگر اہم اداروں، تنظیموں اور ٹرسٹ کے سربراہ بھی ہوتے ہیں، اس لیے ان شخصیات کی مصروفیات میں ان سے وابستہ امور کی انجام دہی بھی شامل ہوتی ہے۔ جہاں تک سندھ کے گورنر کا تعلق ہے تو وہ صوبے کی جامعات کا چانسلر اور لیجنڈز فنڈز سمیت کئی ٹرسٹس کا پیٹرن انچیف بھی ہوتا ہے۔

 

سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے قومی لیجنڈز کے ساتھ کیا کیا؟

 

لیجنڈز فنڈ سابق گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد کے دور میں دسمبر 2006 میں قائم کیا گیا تھا۔ سندھ حکومت نے اس کے قیام کے موقع پر 5 کروڑ روپے عطیہ کیے تھے۔ اس کے ٹرسٹیز میں سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین بھی شامل تھے اور صنعتکار ایس ایم منیر بھی جن کا انتقال نومبر 2022 میں ہوا۔

 

یہ فنڈ قائم کرنے کا مقصد زندگی کے مختلف شعبوں میں لیجنڈز تسلیم کیے جانیوالوں کو خراج تحسین پیش کرنا تھا تاکہ اگر وہ کسی مالی مسائل کا شکار ہوں تو بھی عزت سے زندگی گزار سکیں۔ ان لیجنڈز میں مایہ ناز فنکار، دانشور، شاعر، لکھاری، اسپورٹس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل ہیں۔

 

گورنر عشرت العباد کے بعد چیف جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی، ن لیگ کے رہنما محمد زبیر اور پھر سابق وزیراعظم عمران خان کے دور میں پی ٹی آئی رہنما عمران اسماعیل کو گورنر سندھ مقرر کیا گیا تھا۔ عمران اسماعیل اگست 2018 سے اپریل 2022 تک صوبے کے گورنر رہے، بلحاظ عہدہ وہ بھی لیجنڈز ٹرسٹ کے پیٹرن انچیف تھے۔

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image
Choose Video