Pakistan Popular تازہ ترین

زلزلے کو سترہ سال گزر گئے لیکن اسکے اثرات آج بھی ہمارے ذہنوں میں موجود ہیں ، خواجہ فاروق

مظفرآباد (نمائندہ خصوصی) تحریک انصاف پاکستان کے مرکزی رہنما، وزیر بلدیات خواجہ فاروق احمد نے کہا ہے کہ 8 اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلہ کو 17 سال بیت چکے ہیں اور آج ہم سب یونیورسٹی شہدائے زلزلہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یونیورسٹی کالج گراؤنڈ میں جمع ہوئے ہیں۔ اہلیان کشمیر بالخصوص اہلیان مظفرآباد کے بزرگ، ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں، بچے، بھائی و دیگر عزیز و واقارب پلک جھپکنے میں ہمیں چھوڑ گئے، ان کی نہ ختم ہونے والی کمی آج تک محسوس ہو رہی ہے اور مرتے دم تک محسوس ہوتی رہے گی۔ خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ آج ہمیں جمع ہو کر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ یہ عزم بھی کر لینا چاہیی کہ ہمیں اپنے مظفرآباد کو دوبارہ آباد کرنا ہے، 8 اکتوبر 2005ء کو بچوں، جوانوں کی ایک پوری نسل ہمیں چھوڑ گئی تھی اس نسل کی کمی جو ہمیشہ دکھ دیتی ہے اسے دور کرنا ہے۔ اپنے شہر کو ایک بار پھر خوشیوں اور مسکراہٹوں کا گہوارہ بنانا ہے، جو سکول آج بھی چھت کے بغیر ہیں انہیں چھت دینی ہے، جو بچیاں اپنے والدین سے محروم ہو گئیں ان کے سر پر ہاتھ رکھنا ہے، انہیں رخصت کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا ہے تاکہ کسی یتیم بچی کو 8 اکتوبر 2005ء کے اس دکھ کی کسی بھی حوالے سے یاد نہ آئے۔ 8 اکتوبر کے دن کو ہم نے آئندہ 6 اگست 1945ء جب ہیروشیما اور ناگاساکی جاپان پر بم گرائے تھے اور 9/11 کا واقعہ جو رونما ہوا تھا کو دونوں اقوام ہر سال مناتی ہیں، اپنی اپنی اقوام کو اس دن کی تباہ کاریوں سے متعلق یاد دلاتی ہیں تو ہمیں 8 اکتوبر کو ایک سانحہ سے بھرپور دن کی طرح ہر سال منانا ہے، اپنی نئی نسل کو بتانا ہے۔ سکول کی کتابوں میں 8 اکتوبر 2005ء کے سانحہ سے متعلق ایک الگ باب کا اضافہ کرنا چاہیے کہ ہم اپنے پیاروں، بزرگوں، بچوں، بھائیوں کے متعلق اپنی نئی نسل کو بھی آگاہ کرتے ہیں، صرف ایک دن خراج عقیدت پیش کرنا کافی نہیں ہے۔ 8 اکتوبر 2005ء کو ہم نے اگر بھرپور طریقے سے منانا ہے، اپنے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے تو پھر اپنے شہر کو دوبارہ آباد بھی کرنا ہے اور ایک جدید سیاحتی شہر کا درجہ بھی دلانا ہے۔ انشاء اللہ ہم اپنے 8 اکتوبر 2005ء کے شہداء کو اس طرح بھرپور خراج عقیدت پیش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

Exit mobile version