نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) رواں سال مارچ میں انسانی خون میں پہلی بار مائیکروپلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا اور اب ایک تحقیق میں پہلی بار خواتین کی چھاتیوں سے حاصل کردہ دودھ میں بھی مائیکروپلاسٹک کی موجودگی ثابت ہو گئی ہے جس نے ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق پولیمرز میں شائع ہونے والی اس تحقیقاتی رپورٹ میں اٹلی کی یونیورسٹی پولی ٹیکنیکا ڈیلا مارشے کے ماہرین نے بتایا ہے کہ خواتین کے دودھ میں مائیکروپلاسٹک کی موجودگی کے انکشاف نے ہمیں خواتین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کی مستقبل کے حوالے سے فکرمند کر دیا ہے جو اس دودھ پر پرورش پارہے ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر ویلنشا نوتارستیفانو نے برطانوی اخبار دی گارڈین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے اس تحقیق میں اٹلی کے دارالحکومت روم کی 34ماﺅں کے دودھ کے نمونے حاصل کیے۔ ان میں سے 26(76فیصد) ماﺅں کے دودھ میں مائیکروپلاسٹک پایا گیا۔ یہ شرح انتہائی پریشان کن ہے۔ تحقیق کے ان نتائج کی روشنی میں حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماﺅں کو ہر حال میں خود کو پلاسٹک کی اشیاءسے دور رکھنے کی ضرورت ہے۔“واضح رہے کہ مائیکروپلاسٹک پانی کی بوتلوں، پلاسٹک فوڈ کنٹینرز اور پلاسٹک کی دیگر اشیاءسے انسان کے جسم میں جاتا ہے، جنہیں ہم کھانے پینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

Leave feedback about this