اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک) کینیڈین اداکار ولیم شیٹنر نے گزشتہ سال 90برس کی عمر میں خلاءکا سفر کرکے ’خلائی سفر کرنے والے معمر ترین شخص‘ کا ریکارڈ اپنے نام کیا۔ اس سفر کے ایک سال بعد اب انہوں نے اپنا تجربہ ایک کتاب کے ذریعے دنیا کے سامنے بیان کر دیا ہے اور کچھ ایسے الفاظ بولے ہیں کہ سننے والے دنگ رہ گئے۔ "دی گارڈین” کے مطابق سٹار ٹریک سمیت متعدد سپرہٹ فلموں میں کام کرنے والے ولیم شینٹر نے کہا ہے کہ یہ خلائی سفر میرے لیے ایسے تھا جیسے کوئی جنازہ جا رہا ہو۔
اپنی کتاب ’بولڈلی گو: ریفلیکشنز آن اے لائف آف او اینڈ ونڈر‘ (Boldly Go: Reflections on a Life of Awe and Wonder)میں ولیم شیٹنر لکھتے ہیں کہ ”خلاءمیں ہمارے اس سفر سے توقع تھی کہ اس سے ہمیں خوشی اور راحت ملے گی مگر اس کے برعکس اس سفر کا احساس کسی جنازے جیسا تھا۔ میں جس طرح کے نظاروں کی توقع کے ساتھ گیا تھا، ویسا کچھ نہیں ملا۔ اس سفر سے میرا دل ایک نئے دکھ اور غم سے بھر گیا ہے اور ایک افسردگی نے مجھے گھیر لیا ہے، تاہم اس سفر سے میرے نزدیک ہماری اس زمین کی خوبصورتی دو چند ہو گئی ہے۔اب مجھے احساس ہوا ہے کہ ہم کتنی خوبصورت زمین پر رہ رہے ہیں۔“
ولیم شیٹنر نے لکھا ہے کہ ”میں کائنات کی پراسراریت سے پیار کرتا ہوں۔ مجھے کائنات سے متعلق وہ تمام سوالات بہت اچھے لگتے ہیں جو ہزاروں سال سے ہم انسانوں کے دماغ میں اٹھتے آ رہے ہیں۔لیکن جب میں نے مخالف سمت میں، خلاءمیں دیکھا تو وہاں کوئی پراسراریت نہیں تھی، کوئی حیرت کدہ نہیں تھا جس کا نظارہ کیا جاتا۔ وہاں میں نے بس موت ہی موت دیکھی۔خلاءکے بارے میں جو میں نے سوچا تھا، سب غلط نکلا، جو کچھ توقعات تھیں، سب غلط نکلیں۔ “
واضح رہے کہ ولیم شیٹنر نے تین دیگر لوگوں کے ہمراہ ایمازون کے بانی جیف بیزوس کی کمپنی بلیو اوریجن کے خلائی جہاز میںخلاءکا چکرلگایا۔ یہ چاروں مسافر سفید رنگ کے مکمل خودکار 60فٹ لمبے نئے شیپرڈ خلائی جہاز میں بیٹھ کر خلاءمیں گئے۔ انہوں نے 10منٹ 17سیکنڈ تک خلاءمیں معلق رہ کر بے وزنی کی کیفیت کو محسوس کیا۔
Leave feedback about this