International

بین الاقوامی ریسلنگ چیمپئن نے میچز کی رقم سیلاب زدگان کو وقف کر دی۔

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پیرعاصم شاہ کاظمی نے کہا ہے رنگ آف پاکستان کے انعقاد کا مقصد سیلاب ذدگان کی مدد کرنا ہے، بہت جلد پاکستان میں ریسنگ کی لیگ کروائیں گے جس میں دنیا بھر سے نامور ریسلرز شرکت کرینگے،دنیا بھر کے ریسلرپاکستان آنے کیلئے تیار ہیں،سپورٹس دنیا کی چھٹی بڑی انڈسٹری ہے،ریسلنگ ایسا کھیل ہے جس میں حصہ لینے والے نوجوان اپنی صحت کا خاص خیال رکھتے ہیں،بھارتی ریسلرز کو پاکستان بلوانے کیلئے پالیسی کو دیکھنا پڑے گا، انہوں نے ان خیالات کا اظہار رنگ آف پاکستان میں شرکت کیلئے پاکستان آنے والے بین الاقوامی ریسلرز ٹائنی آئرن، ایڈم فلیکس، ماریہ مے،امیل ڈیب اور پاکستانی ریسلر بادشاہ خا ن کے ہمراہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر نامور ریسلرٹائنی آئرن کا کہنا تھا، میں آدھا پاکستانی ہوں ،خوبصورت پاکستان کے خوبصورت شہر میںدوبارہ آکر کر خوشی ہو رہی ہے،۔ مجھے دوبارہ یہا ںآنے کی بہت خوشی ہے۔میرا یہ دورہ بہت حیرت انگیز رہا کیونکہ پچھلی ملاقات سے اب تک بہت کچھ نیا ہوا ہے،جیسا کہ پاکستان کو سیلاب جیسی قدرتی آفت کا سامنا کر نا پڑا ہے اور ان حالات میں اپنے لوگوں کے لئے افواجِ پاکستان نے جو جدو جہد کی ہے،وہ لاجواب ہے۔پوری دُنیا کو اکٹھا ہو کر اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ میں پوری دُنیا سےسیلاب متاثرین کی امداد کی اپیل کرتا ہوں۔ افواجِ پاکستان کو جرات و بہادری کیساتھ اپنے ہم وطنوں کی مدد کرتے دیکھ کر اچھا لگا ہے۔ اس موقع پر ماریہ مے کا کہنا تھا کہ یہ انکاپاکستان کا پہلادور ہ ہے، یہاں کے لوگ بہت پرجوش اور خوش آمدید کہنےوالے ہیں۔ اس سے پہلے مجھ سے ایسا زبردست برتاؤ میری زندگی میں پہلے نہیں ہوا، سیلاب کی وجہ سے جو کچھ ہوا اور یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے جو ہم نے فلڈ ریلیف سنٹرز کا دورہ کیا جس کے لئے میں آئی ایس پی آر کی مشکور ہوں۔یہ ایک قدرتی آفت ہے جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی اور وہ اقدامات جو ان لوگوں نے متاثرین کو بچانے، اُن کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، اُن کےعلاج معالجے اور غذا کی فراہمی کے لئے کئےگئے وہ بے مثال ہیں۔ میں یو کے کے لوگوں کو بتاؤں گی تاکہ اُن کو پتہ چلے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ ریسرچ کا وقت نکالیں۔ ہم نے کل ان علاقوں کا دورہ کیا اور ہماری چھوٹے بچوں اور حاملہ خواتین سے ملاقات ہوئی جو بغیر چھت اور بے آسرا مشکل سے رہ رہے ہیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم عطیہ تو کر سکتے ہیں۔اس سلسلے میں دیگر ریسلرز سے بھی بات کی ہے کہ ہمیں پوری دُنیا کویہ پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ جتنا ممکن ہو سکے اس سلسلے میں مدد کی جائے۔ آئر لینڈ سے آنے والے ریسلرا یڈم فلیکس نے کہا کہ یہ دوسرا موقع ہے کہ پاکستان آیا ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے اس وقت یہاں کی صورتحال کافی مختلف ہے۔کیونکہ قدرتی آفت نے اس ملک کو کافی متاثر کیا ہے۔میری دلی ہمدردیاں اُن سب کے لئے ہیں جو اس سے متاثر ہو ئے۔امیل ڈیب نے کہا کہ میں پیرس سے یہاں پر آئی ہوں۔یہ پہلا موقع ہے پا کستان آنے کا۔میں پاکستانیوں کی محبت اور احترام کے جذبے سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ پاکستان ایک، احترام کرنے والا، خیال رکھنے والا اور تعاون کرنے والا ملک ہے۔ہم سیلاب متاثرہ علاقوں میں گئے اور وہاں کمسن بچیوں سے ملے۔ میں اُن کو یہ اُمید دلانا چاہتی ہوں کہ ہم جتنا زیادہ ہو سکا اُن کے لئے کریں گے اور میں یہ کہنا چاہتی ہوں آرمی جوکچھ اُن لوگوں کی بہبود کے لئے کر رہی ہے وہ واقعی بے مثالی ہے۔ ہمیں بلانے کا شکریہ بادشا ہ پہلوان خانمیں ہوں بادشاہ پہلوان خان۔ میں بہت شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔آئی ایس پی آر اور پاکستان آرمی کا۔ جن کی وجہ سے ہم یہاں آئے۔ ہمیں لائیو دکھایا اور بتایا کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ آرمی نے سیلاب متاثرہ افراد کی مدد کی اور بطور overseasپاکستانی ہمارا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی مدد کریں۔

Exit mobile version