اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(پمز)میں انفیکشن ڈیزیز شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم نے کہا oہے کہ پمز میں ایچ آئی وی ایڈز سینٹر 2005سے کام کر رہا ہے ، ایچ آئی وی کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 4500 ہے جس میں زیادہ تر مرد شامل ہیں۔پیر کومیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پمز میں 2005 سے ایڈز کا سینٹر مکمل طور پر فعال ہے جس میں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 4500ہے جن میں زیادہ تعداد مردوں کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ شرح اموات انتہائی کم ہے کیونکہ ابتدائی سٹیج پر مرض کی تشخیص سے اس پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلائوکے بنیادی اسباب میں ، منشیات، ٹرانس جینڈر اور غیر ملکی افراد کے درمیان جنسی بے راہ روی وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایڈز سے زیادہ تر نوجوان طبقہ متاثر ہوتا ہے جو منشیات اور جنسی راہ روی کا شکار ہیں۔ڈاکٹر نسیم نے مزید بتایا کہ ایڈز سینٹر میں مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے اور بیماری سے تحفظ کے حوالے سے آگاہی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی خون، جنسی رطوبتوں میں پایا جاتا ہے ،اگر آپ کے دوران خون میں ان میں سے کوئی چیز داخل ہو جائے تو ایچ آئی وی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آئی وی انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتا ہے۔ ایچ آئی وی کی ادویات کے استعمال سے انسان صحت مند اور لمبی زندگی گزار سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادویات سے وائرس کی تعداد خون میں اس قدر کم ہوجاتی ہے کہ انہیں خوردبین کے ذریعے بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ اسے ہم ناقابل سراغ وائرل لوڈ کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایچ آئی وی سے بیمار نہیں ہوں گے اور نارمل زندگی گزاریں گے۔
Leave feedback about this