QUEST NEWS

International Pakistan تازہ ترین

آسٹریلوی وزیراعظم سمیت لاکھوں افراد کا طبی ڈیٹا ڈارک ویب پر اپ لوڈ

آسٹریلیا:آسٹریلیا میں سائبر جرائم پیشہ افراد مریضوں کی معلومات کے بدلے تاوان نہ ملنے کے بعد ہیلتھ انشورنس کمپنی میڈی بینک کا ڈیٹا ڈارک ویب پر ڈال رہے ہیں۔

جمعے کو تیسرے دن بھی مریضوں کے ذاتی طبی ریکارڈز ڈارک ویب پر اپ لوڈ کیے گئے۔ اس بار الکوحل سے متعلق بیماریوں کا ڈیٹا لیک کیا گیا۔خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ان جرائم پیشہ افراد نے آسٹریلیا کی سب سے بڑی ہیلتھ انشورنس کمپنی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تقریباً ایک کروڑ افراد کے چوری شدہ کسٹمر ڈیٹا کے لیے تاوان ادا کرے۔تاہم جب میڈی بینک نے ہیک شدہ ڈیٹا کی واپسی کے لیے تاوان ادا کرنے سے انکار کر دیا تو ان ہیکرز نے بدھ کو سینکڑوں صارفین کے ریکارڈز کو ڈارک ویب پر اپ لوڈ کرنا شروع  کر دیا، جس میں ایچ آئی وی اور منشیات کی لت کے علاج کی تفصیلات شامل ہیں۔ اس ڈیٹا کو انہوں نے ’شرارتی‘ فہرست کا نام دیا۔حکام نے بتایا کہ جمعرات کو حمل ضائع کرنے اور جمعے کو الکوحل کے استعمال کی نقصان دہ سطح کے متعلق مریضوں کی معلومات لیک کی گئیں۔جمعے کو 700 سے زیادہ کسٹمرز کے طبی علاج کا ریکارڈ  لیک کیا گیا۔ اسے آسٹریلیا کا سب سے زیادہ جارحانہ سائبر جرم کہا جا رہا ہے۔بہت سے کسٹمرز کی دیگر ذاتی تفصیلات بشمول فون نمبر اور ای میل ایڈریس بھی لیک کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی شناخت چوری ہو سکتی ہے یا وہ دھوکہ دہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔تیسری بار ڈیٹا لیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے میڈی بینک کے سی ای او ڈیوڈ کوزکر نے کہا کہ ان کی کمپنی ان صارفین سے رابطہ کر کے مدد کی پیش کش کر رہی ہے، جن کی معلومات لیک ہوئی ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مزید ڈیٹا بھی لیک ہوگا۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’مجرم جو حربہ استعمال کر رہے ہیں اس کی مقصد تکلیف اور نقصان پہنچانا ہے۔‘میڈی بینک کے سی ای او نے مزید کہا کہ ’یہ معلومات اصل لوگوں کی ہیں اور ان کی معلومات کا غلط استعمال افسوس ناک ہے۔ ایسا کرنے سے لوگوں کے طبی دیکھ بھال حاصل کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے۔‘آسٹریلوی حکام کو امید ہے کہ یہ ڈیٹا ڈارک ویب تک ہی محدود رہے گا اور سوشل میڈیا یا تفصیلی خبروں کے ذریعے زیادہ عوام تک نہیں پھیلے گا۔وزیراعظم انتھونی البانیز نے مزید کہا کہ آسٹریلوی وفاقی پولیس جمعے کی شام تک بتائے گی کہ اس چوری کا ذمہ دار کون ہے۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’ہم جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں، ہم جانتے ہیں کہ ذمہ دار کون ہے اور ہم کہتے ہیں کہ ان کا احتساب ہونا چاہیے۔‘

Leave feedback about this

  • Quality
  • Price
  • Service

PROS

+
Add Field

CONS

+
Add Field
Choose Image
Choose Video